ساجد علوی کے بارے میں جائزہ
جناب ساجد علوی صاحب پاکِیزہ رجحانات کے صاحب فن شاعر ہیں جو کہ آج کے دور میں ناپید ہیں۔ آپ کی نعت گوئی کا سلسلہ پوری شد و مد کے ساتھ جاری وساری ہے۔ آپ کی متعدد نعتیہ کتب بیرون ملک مقیم ہونے کے دوران مکمل ہوئیں ۔ آپ قارئین کے ذوق و شوق کو بڑھانے کے لئیے چند احباب کی آراء کو بیان کیا جا رہا ہے۔ جنھوں نے آپ کی صنف نعت گوئی کی سلاست و نفاست کو یوں بیان فرمایا ہے۔
جناب عزت مآب حضرت پیر سید غلام معین الحق گیلانی مدظلہ العالی (سجادہ نشین درگاہ گولڑہ شریف )جناب ساجد علوی صاحب کی نعتیہ کتاب ’’ جان جہاں ‘‘کے پیش لفظ میں جناب عزت مآ ب حضرت پیر سید غلام معین الحق گیلانی مد ظلہ العالی ( سجادہ نشین درگاہ گولڑہ شریف ) یوں بیان فرماتے ہیں۔ ’’میں نے آپ کے شعری مجموعوں کو پڑھ کر یہ محسوس کیا ہے کہ وہ نعت گوئی کو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتِ عظمٰی تصور کرتے ہیں اور درود شریف کے ورد کو حق تعالیٰ کی خاص رحمت سمجھتے ہیں اشعار میں وہ جب بھی خالقِ حقیقی کا ذکر کرتے ہیں ان کے نزدیک ذاتِ خدا رحمٰن و رحیم ، ذوالقوة المتين، نہایت مہربان اور کریم ہے۔ خالق ذرہ ذرہ کی فریا د سنتا ہے ایک ایک فرد کو اپنے خزانۂ رحمت سے مالا مال کرتا ہے وہ ذاتِ احد مکان ولا مکان پر محیط ہے ‘‘۔

جناب عزت مآب
جناب ساجد علوی صاحب کا پہلا نعتیہ مجموعہ نورو سرور ہے ۔ اس کے دوسرے ایڈیشن کے پیش لفظ میں فیاض باقر صاحب نے جناب پروفیسر باغ حسین کمال کے ان بیش بہا قیمتی الفاظ کو بیان کیا ہے جو کہ آپ نے جناب ساجد صاحب کی فن نعت گوئی کے سلسلے میں تحریر فرمائے پیش نظر ہیں۔ ’’ پروفیسر باغ حسین کمال ‘‘ ساجد علوی کی نعت گوئی کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں ’’ غزل گوئی کی محنت ساجد علوی کو نعت گوئی میں کام آئی ان کی نعتوں میں بے خودی ‘ سرشاری ‘ کیف و مستی‘ وجدان و عرفان ‘ حسن و جمال ‘ نور و نکہت ‘ کرم ‘ نوازش ‘ عنایت ‘ خوشبو و چاندنی ‘ نظر و توجه ‘ تصور ‘ خیال اور یاد و ذکر کے الفاظ بکثرت مطالعہ میں آتے ہیں۔ ان کے مزاج میں عشق و محبت کا عنصر پہلے سے موجود تھا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے عقیدت و محبت کی حرارت نے اسے پختہ کر دیا۔ ان کا ذوق و شوق یکسر باوضو ہو گیا۔ ان کی نعت کی زباں بڑی رواں ہے۔ یہ نعت میں خوب صورت الفاظ بڑے دلنشیں انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ ان کے نعتیہ افکار و خیالات میں اعتدال ‘ توازن کا اہتمام خاص طور سے قابل ذکر ہے۔ فرطِ عقیدت کے باوصف انہوں نے اپنے جذبہ و فکر کو نعت کے دائرہ میں محدود رکھا۔ اور نعت کو نعت کے درجہ میں متعین رکھا۔ ‘‘

جناب
پروفیسر نجمی صدیقی آپ ساجد علوی صاحب کے دیرینہ دوستوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کے دوسرے نعتیہ مجموعہ ’’ اُن کی یاداُن کا خیال ‘‘ کے دیباچہ میں جناب محترم پروفیسر نجمی صدیقی نے یوں تحریر کیا ہے ۔ ساجد علوی کو خالقِ کا ئنات نے عشقِ رسولؐ کے ساتھ ساتھ نعت کی حدادب میں رہ کر نعت گوئی کا ملکہ عطا کیا ہے ۔ فروتنی اور انکساری ان کی طبعِ موزوں کے لئے ایسے پیمانے کا کام دیتی ہے جو انہیں افراط و تفریط سے یکسر بچالے جائے ۔ جس طرح ہم اپنا مافی الضمیر کسی ایسی شخص سے بیان نہیں کرتے جس کا مزاج ہمیں پسند نہ ہو بالکل اسی طرح نعت رسول مقبول ﷺ بھی اپنا ایک مخصوص آہنگ مزاج رکھتی ہے پس ایسا شاعر جس کی طبیعت میں سعادت نہیں ارادت نہیں ” نعت ‘‘ اپنے معارف و نکات اس پر ظاہر ہی نہیں کرتی ۔ اس لحاظ سے ساجد علوی خوش بخت ہیں کہ انہوں نے اپنے آپ کو نعتِ رسولِ مقبول ﷺ کے مزاج سے ہم آہنگ کر لیا ہے۔ وہ غزل نہیں کہتے غزل کے اسلوب میں نعت کہتے ہیں تو تقدس عقیدت اور مؤدت کی پاکیزگی ہمہ وقت ان کے پیشِ نظر رہتی ہے ۔ وہ اپنے الفاظ کے بھر پور تاثر سے ایسی پاکیزہ نعتیہ فضا قائم کر لیتے ہیں جس میں ان کے لئے سانس لینا آسان ہو جاتا ہے۔

جناب
آپ ساجد علوی کے جناب پروفیسر شوکت واسطی کے ساتھ چالیس سال کے دیرینہ تعلقات تھے۔ آپ کی متعدد کتب کی اشاعت اُن کے ادارے بزم علم فن پاکستان انٹر نیشنل اسلام آباد میں ہوئیں۔ جناب پروفیسر شوکت واسطی آپ ساجد علوی صاحب کے نعتیہ مجموعہ ’’ محراب جاں ‘‘ کے ’’ تقریظ ‘‘ میں تحریر کیا ہے۔ کہ جب آپ ساجد علوی صاحب کے زیر نظر مجموعہ ’’ محراب جاں ‘‘ کا مطالعہ کریں تو محسوس ہو گا ساجد علوی کی ہر نعت سلاست و نفاست کے ساتھ اس معیار پر مکمل اترتی ہے۔ انہیں پڑھ کر وہ روحانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے ‘ جو موئثر طور پر ان کے اندر سرایت کی گئی ہے۔ ساجد علوی درگاه عالیه گولڑہ شریف سے وابستہ ہیں۔ ’’ حضرت سید پیر مہر علی شاہؒ ‘‘اپنے وقت کے صاحب طرز فکر فرما تھے اور نعت کے جو اشعار آپ سے ہم تک پہنچے ہیں زباں زَد خاص و عام ہیں کیونکہ وہ دل ‘ دماغ ‘ روح پر بیک وقت اپنی اثر پذیری کے باعث منقوش ہو گئے ہیں۔ ساجد علوی کا اس فضا اور ماحول سے متاثر ہونا ناگزیر ہوا اور وہاں کا صدق وصفا ان کے ذکر و فکر میں رس بس گیااور یہی پر تو ان کے کلام میں نمایاں ہے۔ یہی ان کی نعت گوئی کو اپنا ایک اسلوب دے گیا ہے۔ اور ماشا اللّٰہ خوب خوب دے گیا ہے۔

جناب
جناب پیر سید غلام معین الحق گیلانی ( سجادہ نشین درگاہ گولڑہ شریف ) نے نعتیہ مجموعہ رباعیات ساجد علوی کے حرف ناطق میں مختلف موضوعات جن میں لا الہ الا اللّٰہ ‘ محمد رسول ؐ ‘ واسطہ و توسل ‘ تبرک اور بدعت پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اور ان مندرجہ بالا موضوعات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ساجد علوی کی نعت گوئی کی توصیف و تعریف کرتے ہوئے یوں رقم طراز ہوئے ہیں۔ ’’میرے دوست ساجد علوی نے مندرجہ بالا بیان کردہ موضوعات کے مطالب کو اپنی دوسو رباعیات کے دامن میں سمونے کی کوشش کی ہے۔ آپ نے جس محنت و کاوش اور عرق ریزی سے ان موضوعات کی صحیح اسناد تلاش کیں وہ ان کا بہت بڑا تحقیقی کام ہے۔ رباعیات میں ان موضوعات کو بیان کرنا ساجد علوی کی کامیاب کوشش ہے۔ ان کی لکھی ہوئی رباعیات فن کے اعتبار سے وہ تابدار گوہر ہیں جو ضیا بار ستاروں کی طرح اُردو شعری ادب کے اونچے آسمان پر ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے۔ رباعی وہ صنفِ سخن ہے جسے از شرق تا غرب مقبولیت حاصل ہے۔ اس کا تعارف ہر زبان و ادب کی تاریخ میں موجود ہے۔ عمر خیام اور اس کی رباعیات کے مترجم ایڈورڈ فٹز جبرالٹر نے رباعی صنفِ سخن کی جو خدمات سر انجام دی ہیں وہ اپنی جگہ تاریخِ ادبِ عالم کا ایک روشن باب ہے اس کام سے یہ دونوں حضرات مشاہیرِ عالم میں شمار ہوتے ہیں رباعی کہنا واقعی خوبی و مہارت کی بات ہے ۔ معیاری اور اچھی رباعی کہنا تو اور ہی فضیلت کا معاملہ ہے ساجد علوی کے اس مجموعہ میں شامل تمام رباعیات ایک ہی وزن مفعول مفاعیل فع پر لکھی گئی ہیں۔ یہ تمام رباعیات میری چشم ذوق میں معیاری ہیں۔ موضوعات و مطالب کے پیش نظر ان کا مقام و مرتبہ اور زیادہ بلند ہے.

جناب عزت مآب
شہرہ آفاق ادبی شخصیت پروفیسر احسان اکبر کا ساجد علوی صاحب کے پرانے ساتھیوں میں شمار ہوتا ہے . پروفیسر صاحب نے شوق فراواں میں ساجد علوی صاحب کی نعت گوئی کا یوں جائزہ لیا ہے. ساجد علوی نے نعت کہنے کو اختیار کیا تو دل میں راہ پیدا کرنے والی مشہور نعتوں کے مطالعہ سے گزرے۔ اعلیٰ حضرت احمد رضا خانؒ بریلوی ‘ حضرت سیّد پیر مہر علی شاہؒ ‘ بیدم وارثیؒ‘ ظفر علی خانؒ ‘ حافظ مظہر الدینؒ کا بالاستیعاب مطالعہ کیا۔ آپ نے نعت کے روایتی اسلوب کو توجہ دی اور اسی کو اپنا اظہار بنانا چاہا۔ آپ کی نعت نے اردو ہی نہیں فارسی نعت کے فیضانِ عام سے بھی گوہرِ مقصود چنا اور فیضِ کثیر پایا۔
