Biography

Mr. Muhammad Saddiq Alvi (known as Sajid Alvi) belongs to an average family. His ancestors were devoted in fasting and prayers, with piety as their motto. They were affluent in religious knowledge and were esteemed in society. Mr. Sajid Alvi was born on the morning of 1st February 1931, in the home of Haji Muhammad Noor Alvi (late), known as “Noori Hazuri”. His ancestral homeland is Chakwal.

Hazrat Pir Syed Moin ul Haq Gillani (2003) the chief custodian of Golra Sharif shrine described Sajid Alvi’s spiritual connection with Golra Sharif in the preface of his Naat collection “Jan-e-Jahan” as follow: “Mr. Sajid Alvi had the privilege of pledging allegiance (baet) to Hazrat Pir Syed Ghulam Mohyuddin Gillani (RA), alias Babuji in 1958, and in 1972, he permanently settled in Islamabad. He is known as “Alvi” due to attaining the status of “Qutb Shahi” His grandfather, Pir Faqeer Muhammad Hassan, and father, Haji Muhammad Noor Alvi, were devoted to worship and fasting throughout the night. Both were counted among the special devotees of Hazrat Pir Syed Mehr Ali Shah Gilani (RA)”.

In the pure environment of your home, you grew up and found love for the Prophet’s heritage. You have been cherished by the school of thought since the beginning. There is a special inclination towards the discourse of knowledge. Mr. Sajid Alvi’s world is rich with joy and delight. Along with the esteemed position of reciting religious poetry, you are also a scholar of Jafar, whose knowledge has been passed down to you.

You were inclined towards education from the beginning. You completed your M.A. BT and were associated with the teaching profession. In your tenure of service, you were known as a successful subject specialist and retired as a principal with the special grace, generosity, honour, and dignity of Allah Almighty. Mr. Sajid Alvi Sahib’s spiritual affiliation is with the revered Golra Sharif shrine, which he inherits from his ancestors. Your literary participation remained with the monthly magazine ‘Mehr-e-Muneer’ from Golra Sharif. A poem in relation to the appreciation of connoisseurs is presented here for service.”

زندگی گزری درِ مہرِؒ علی پر ساجدؔ

اپنا دربان مجھے آلِؑ عَبا نے رکھا

The Beginning of Poetry Recitation Since childhood, Mr. Sajid Alvi Sahib had a passion for poetry recitation. And the passion for acquiring knowledge was ingrained in his heritage. At the age of 16, in a poetry gathering held on August 14, he recited the first verse of his composition.

بحمداللہ چمن میں ازسر نو پھر بہار ائی

گھٹا عشرت کی چھائی اور بوئے مشکبار ائی

The Beginning of Ghazal Recitation
Mr. Sajid Alvi’s connection stems from an educated household. Therefore, after obtaining higher education, they quickly found themselves in the workforce and became dedicated to the field of teaching. While residing in Chakwal, they often participated in gatherings centred around poetry and literature. Many friends and acquaintances would frequently visit their home, engaging in poetic conversations alongside tea. It was a time when ghazal recitation held significant importance for them. The first verse of ghazal recitation from that period is noted as follow:

سحر ہوئی تو ہر ایک لب پہ شور محشر تھا

ہم اور ذکر شب انتظار کیا کرتے

Indeed, it is essential to mention the special companions of Mr. Sajid Alvi Sahib during his time in Chakwal, who have now departed from this transient world. Among them are Professor Baqar Hussain Kamal (late), Syed Iftikhar Hussain Naqvi (late), Riaz Chishti (late), Jameel Hashmi (late), Mushtaq Qazi (late), Shaukat Wasati (late), and Majid Sadiqi (late).

Some well-known personalities from this circle of companions are still present today, including Jameel Yousuf, Ihsan Elahi Ihsan, Abid Jafri, and Professor Ihsan Akbar.

The Beginning of Naat Recitation In 1958, when you were twenty-six years old, you participated in the annual Urs Pak at Golra Sharif. There, you had the privilege of pledging allegiance (baet) to Hazrat Pir Syed Mehr Ali Shah Gilani’s (RA) son, the revered Pir Syed Ghulam Mohiyuddin Gilani (RA), alias Babu Ji. After taking the pledge, you experienced increased agitation in your spiritual state, and suddenly, sitting with friends, engaging in poetic gatherings, ceased. Several years passed like this, and you became devoted to fasting and prayers. Your lips uttered frequent blessings (Darood Sharif), but after some time, a decrease in your restless condition began, and gradually, you were drawn back towards poetry recitation.

A significant transformation occurred in your personality, as whenever you recited a verse, it would be in praise of the Prophet Muhammad (peace be upon him), due to the special increase in love for the Prophet (peace be upon him) derived from the abundant blessings of Salawat. This was the period when you took the first step towards Naat recitation. Here are a few verses marking the beginning of Naat recitation, presented for service.

دلِ حزیں کو خوشی کا پیام آیا ہے

مِری زباں پہ محمدؐ کا نام آیا ہے

سُرور و کیف سے مد ہوش دل کی دنیا ہے

ضرور دل کو جوابِ سلام آیا ہے

نبیؐ کا شہر ہے آہستہ سانس لے ساجدؔ

نظر جُھکا درِ خیرالاَنام آیا ہے

جانِ جہاں ۲۰۰۱ء
رُباعیاتِ ساجد ؔعلوی ۲۰۰۵ء
شوقِ فراواں ۲۰۰۵ء
ذوقِ جمال ۲۰۰۵ء
حَرفِ نیاز ۱۹۸۱ء
نُوروسرُور ۱۹۹۸ء
اُن کی یاد اُن کا خیال ۱۹۹۹ء
محرابِ جاں ۲۰۰۱ء

The collection of Rubaiyat by Sajid Alvi, especially dedicated to the esteemed and revered personality, Hazrat Pir Syed Shah Abdul Haq Gilani (may his soul rest in peace), is attributed to the shrine of Ghausia Mahriya Golra Sharif. Below Rubai is presented in the honour of famous Pir Sahib known as “Chote Lala Ji”

آئینۂ اَفلاک ہے شہ عبدالحق

شاخِ شَجرِ پاک ہے شہ عبدالحق

ایوانِ وَلایت کی وُہ روشن قندیل

نُورِ شہِؐ لولاک ہے شہ عبدالحق

سوانح عمری

جناب محمد صدیق علوی صاحب ( تخلص ساجدؔ علوی ) کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ آپ کے آباؤ اجداد صوم وصلوٰة کے پابند ، تقویٰ اُن کا شعار ، دولتِ علم و فن سے مالا مال تھے اور معاشرے میں انھیں عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔جناب ساجدؔ علوی صاحب نے یکم فروری ۱۹۳۱ء کی صبح حاجی محمد نور علویؒ نوری حضوری (مرحوم ) کے گھر جنم لیا ۔ آپ کا آبائی وطن چکوال ہے۔

جناب پیر سید غلام معین الحق گیلانی مدظلہ العالی سجادہ نشین گولڑہ شریف نے ساجدؔ علوی صاحب کے نعتیہ مجموعہ ’’جانِ جہاں‘‘ کے پیش لفظ میں آپ کی روحانی وابستگی درگاہِ گولڑہ شریف کے بارے میں یوں بیان فرمایا ہے کہ ساجد ؔعلوی صاحب کو ۱۹۵۸ء میں پیر سید غلام محی الدینؒ گیلانی ( المعروف بابو جی ) قدس سرہ العزیز کو دستِ حق پر بیعت ہونے کی سعادت نصیب ہوئی اور ۱۹۷۲ء میں مستقل طور پر اسلام آباد کے رہائشی بن گئے ’’ قطب شاہی ‘‘ ہونے کے ناطے ’’ علوی ‘‘ کہلاتے ہیں آپ کے دادا پیر فقیر محمد حسنؒ اور والد حاجی محمد نور علویؒ قائم الیل اور صائم الدہر تھے۔ آپ دونوں کا شمار حضرت پیرسید مہر علی شاہ ؒ گیلانی قدس سرہ العزیز کے خاص نیاز مندوں میں ہوتا ہے۔

آپ اپنے گھر کے پاکیزہ ماحول میں بڑے ہوئے اور ورثے میں حُبِ رسولؐ پایا۔ آپ آغاز ہی سے مکتبۂ فکر کے دلدادہ ہیں۔ کلامِ معرفت سے خصوصی رغبت ہے۔ جناب ساجدؔ علوی صاحب کے دل کی دنیا سُروروکیف سے زرخیز ہے۔نعت گوئی کے اعلیٰ مقام کے ساتھ ساتھ آپ ماہرِ علمِ جفر ہیں جو کہ سینہ بسینہ آپ تک منتقل ہوا ۔ آپ شروع ہی سے تعلیم کی طرف راغب تھے۔ آپ نے ایم۔اے۔بی ٹی کیا اور شعبۂ تدریس سے وابستہ ہوئے۔ آپ اپنے دورِ ملازمت میں ایک کامیاب سبجیکٹ سپیشلسٹ کے طور پر جانے جاتے تھے اللہ تبارک و تعالیٰ کے خصوصی فضل و کرم وعزت و آبرو کے ساتھ ریٹائرڈ پرنسپل ہوئے۔

جناب ساجدؔ علوی صاحب کی روحانی وابستگی دربار ِعالیہ گولڑہ شریف سے ہے۔ اور یہ وابستگی اپنے آباؤ اجداد سے حاصل ہوئی۔ آپ کی اَدبی مشارکت ارادت و مشاورت ماہنامہ ’’ مہر منیر‘‘ گولڑہ شریف سے رہی۔ اہلِ ذوق کے لیےنسبت کا شعر حاضرِ خدمت ہے۔

زندگی گزری درِ مہرِؒ علی پر ساجدؔ

اپنا دربان مجھے آلِؑ عَبا نے رکھا

آغازِ شعر گوئی

جناب ساجدؔ علوی صاحب کو عہد طفولیت ہی سے شعر گوئی کا شوق تھا۔ اور حصولِ علم کا شوق ورثے میں ملا ۔ آپ نے اٹھارہ برس کی عمر میں ۱۴ اگست کے سلسلے میں منعقد ایک مشاعرے میں اپنی نظم کا پہلا شعر یہ کہا۔

بحمد اللہ‘ چمن میں از سرِ نو پھر بہار آئی

گھٹا عشرت کی چھائی اور بوئے مشکبار ائی

آغازِ غزل گوئی

جناب ساجدؔ علوی کا تعلق ایک پڑھے لکھے گھرانے سے ہے۔ اسلئے اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جلد ہی برسرِروزگار ہو گئے اور شعبۂ تدریس کی خدمت آپ کا مقدر بنیں۔ رہائش چکوال میں تھی تو وہاں کی شعروشاعری کی فضا میں منعقدہ محافل میں اکثر شرکت ہوتی۔ اکثر دوست احباب گھر میں آتے جاتے‘ چائے نوشی کے ساتھ ساتھ شعری گفتگو بھی کرتے اور یہ وہ وقت تھا جب غزل گوئی آپ کے لیے بہت اہم تھی۔ اس دورِ غزل کا پہلا شعر ملا حظہ ہو۔

سحر ہوئی تو ہر ایک لب پہ شور محشر تھا

ہم اور ذکر شب انتظار کیا کرتے

جناب ساجدؔعلوی صاحب کے زمانۂ رہائش چکوال کی محافل کے خاص اِحباب کا ذکر ضروری ہے جو اب اس دنیا فانی سے رخصت ہو چکے ہیں ۔ جن میں جناب پروفیسر باغ حسین کمال (مرحوم) ، جناب سید افتخار حسین ناطق (مرحوم) ، جناب ریاض چشتی (مرحوم) ، جناب جمیل ہاشمی (مرحوم ) ، جناب مشتاق قاضی (مرحوم ) ، جناب شوکت واسطی (مرحوم ) اور ماجد صدیقی (مرحوم) شامل ہیں۔
اس حلقۂ اِحباب کی چند معروف شخصیات آج بھی موجود ہیں جن میں جمیل یوسف، اِحسان الہی اِحسان، عابد جعفری اور پروفیسر اِحسان اکبر شامل ہیں۔

آغازِ نعت گوئی

۱۹۵۸ء میں جب آپ کی عمر چھبیس برس کی تھی تو آپ نے گولڑہ شریف کے سالانہ عرس پاک میں شرکت کی۔ وہاں آپ کوحضرت پیر سیدمہر علی شاہؒ گیلانی قد س سرہ العزیز کے فرزند ازجمند پیر سیدغلام محی الدینؒ گیلانی ( المعروف بابو جی ) قدس سرہ العزیز کے دست مبارک پر بیعت ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ بیعت ہونے کے بعد آپ ساجدؔ علوی صاحب کی اضطرابی کیفیات میں اضافہ ہو گیا اور اچانک دوستوں میں اٹھنا بیٹھنا ، شعری محافل میں شرکت کرنا ختم ہوگیا۔ کئی سال اِسی طرح گذرگئے اور آپ صُوم و صلوٰة کے پابند ہوگئے۔ آپ کے لبوں پر کثرت سے درود شریف ہوتا ‘ لیکن کچھ عرصے کے بعد طبعیت کی اضطرابی کیفیات میں کمی ہوناشروع ہوئی اور آہستہ آہستہ دوبارہ شعر گوئی کی طرف راغب ہوئے۔شخصیت میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا ہوئی کہ آپ ساجدؔ علوی صاحب جب بھی کوئی شعر کہتے تو وہ نعتیہ شعر ہوتا ، اس کی اہم وجہ خاص الخاص فیضانِ دُرودِ پاک سے ’’ حُبِ رسولؐ اللہ‘‘ میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ یہی وہ دَور تھا جب آپ نے نعت گوئی کی طرف پہلا قدم رکھا آغازِ نعت گوئی کے چند اشعار حاضرِ خدمت ہیں ۔

دلِ حزیں کو خوشی کا پیام آیا ہے

مِری زباں پہ محمدؐ کا نام آیا ہے

سُرور و کیف سے مد ہوش دل کی دنیا ہے

ضرور دل کو جوابِ سلام آیا ہے

نبیؐ کا شہر ہے آہستہ سانس لے ساجدؔ

نظر جُھکا درِ خیرالاَنام آیا ہے

جناب ساجدؔ علوی صاحب کی نعت گوئی کا سلسلہ بتدریج جاری و ساری ہے۔ آپ کے آٹھ نعتیہ مجموعے اشاعت پذیر ہو چکے ہیں۔ جسے ہر خاص و عام نے بے حدسراہا ۔ مندرجہ ذیل تمام نعتیہ تصانیف حاضرِ نظر ہیں۔

جانِ جہاں ۲۰۰۱ء
رُباعیاتِ ساجد ؔعلوی ۲۰۰۵ء
شوقِ فراواں ۲۰۰۵ء
ذوقِ جمال ۲۰۰۵ء
حَرفِ نیاز ۱۹۸۱ء
نُوروسرُور ۱۹۹۸ء
اُن کی یاد اُن کا خیال ۱۹۹۹ء
محرابِ جاں ۲۰۰۱ء

مجموعہ رُباعیاتِ ساجدؔ علوی خاص الخاص جناب عزت مآب حضرت پیر سید شاہ عبدالحق ؒ گیلانی قدس سرہ العزیز درگاہ ِغوثیہ مہریہ گولڑہ شریف کے نام منسوب ہے۔ ایک رُباعی المعروف چھوٹے لالہ جیؒ ، پیر صاحب مرحوم ؒ کے نام قلمبند کی، پیشِ نظر ہے۔

آئینۂ اَفلاک ہے شہ عبدالحق

شاخِ شَجرِ پاک ہے شہ عبدالحق

ایوانِ وَلایت کی وُہ روشن قندیل

نُورِ شہِؐ لولاک ہے شہ عبدالحق